6

پانچ سال میں درآمدات پر انفراسٹرکچر سیس سے 1500 ارب روپے جمع

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے صنعتکار عدیل صدیقی نے سندھ کے صنعتی انفراسٹرکچر، خصوصاً حیدرآباد اور کوٹری سائٹ ایریاز کی خستہ حالی پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو جاری بیان میں عدیل صدیقی نے کہا کہ یہ صورتحال اس حقیقت کے باوجود ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران درآمدات پر عائد انفراسٹرکچر سیس کے تحت 1500 ارب روپے سے زائد رقم جمع کی جا چکی ہے، مگر اس کے باوجود صنعتی علاقوں کی مکمل طور پر نظراندازی کی جا رہی ہے جو کبھی سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔

عدیل صدیقی، جو ایف پی سی سی آئی کی حکمران جماعت بزنس مین پینل (پروگریسو) کی سپریم کونسل کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ ایک جانب وفاقی سطح پر مہنگی توانائی، بلند شرحِ سود اور پیچیدہ ٹیکس نظام صنعتکاروں کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، تو دوسری جانب سندھ حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بھی بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کا نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ حال ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں ٹرک اور کنٹینرز گزرتے ہیں، مگر حکومت اس صورتحال سے مکمل طور پر بے پرواہ نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ٹوٹی سڑکوں کے باعث صنعتکاروں کو نقل و حمل میں تاخیر، گاڑیوں کو نقصان اور حفاظتی خدشات کا سامنا ہے۔

عدیل صدیقی نے سوال اٹھایا کہ چند سال قبل درآمدات پر 1.85 فیصد انفراسٹرکچر سیس عائد کیا گیا تھا، جس سے اربوں روپے جمع ہوئے، مگر یہ رقم کہاں خرچ ہوئی؟ اگر یہ ٹیکس صنعتی انفراسٹرکچر کے لیے تھا تو حیدرآباد اور کوٹری آج بھی سڑکوں، نکاسی آب اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟

انہوں نے صنعتی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی صنعتیں یا تو بند ہو چکی ہیں یا مہنگے نجی ٹینکرز کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جس سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے اور صنعتیں غیر مسابقتی ہو رہی ہیں۔

عدیل صدیقی نے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ وفاق کی طرز پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسی باڈی سندھ کی سطح پر بھی قائم کریں۔

انہوں نے تجویز دی کہ سندھ میں ایک صوبائی سرمایہ کاری سہولت کاری ادارہ بنایا جائے، جسے صنعتی علاقوں میں سڑکوں، پانی، نکاسی آب، بجلی اور امن و امان جیسے مسائل حل کرنے کے لیے مکمل انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں، بصورت دیگر صوبے میں صنعتکاری کا عمل مزید زوال کا شکار ہوتا رہے گا۔

آخر میں عدیل صدیقی نے مطالبہ کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت خود حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی علاقوں کا دورہ کرے اور بگڑتے ہوئے انفراسٹرکچر کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں