بیجنگ/اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)چین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن بات چیت مستحکم اور مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، اور دونوں ممالک چین کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور افغانستان دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور سازگار حالات پیدا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
ترجمان نے مذاکرات کے مقام کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کی جانب سے تصدیق کی جا چکی ہے کہ بات چیت چین کے شمال مغربی شہر ارومچی میں ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ چین کی مغربی سرحد پاکستان اور افغانستان سے ملتی ہے اور بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تعلقات میں حقیقی پیش رفت کے لیے افغانستان سے واضح، قابلِ تصدیق اور تحریری یقین دہانیوں کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبانی وعدے ماضی میں ناکافی ثابت ہوئے ہیں، جیسا کہ 2021 کے دوحہ معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے، جس پر ٹی ٹی اے نے نہ لفظی طور پر عمل کیا اور نہ ہی اس کی روح کے مطابق۔
قبل ازیں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ پاکستان نے اپنے مستقل مؤقف کے مطابق ارومچی مذاکرات کے لیے ایک وفد بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کے خدشات دور کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ارومچی میں ہونے والے مذاکرات ورکنگ لیول کے ہیں اور پاکستان اپنی تمام کارروائیاں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی وفد تاحال چین میں مصروف ہے، وفد کی واپسی کے بعد مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی واضح تصویر سامنے آ سکے گی، جس پر مناسب وقت پر مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔


