**واشنگٹن/دبئی (ایچ آراین ڈبلیو):** وال اسٹریٹ جنرل (WSJ) کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، خلیجی ممالک نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال نے خلیجی ریاستوں اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات میں بڑی دراڑ پیدا کر دی ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ اس جنگ اور موجودہ بحران کے آغاز سے پہلے **جنرل ڈین کین** نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ کشیدگی کی صورت میں ایران **آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)** کو بند کر سکتا ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وارننگ کے جواب میں صدر ٹرمپ نے انتہائی پراعتماد اور سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ “ایران آبنائے ہرمز بند کرنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دے گا”۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کا موقف ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے اور ایران پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی نے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خلیجی حکام نے تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ان کی معیشتوں اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑے گا، جس کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا۔ دوسری جانب ایران نے پہلے ہی متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کو “جائز اہداف” قرار دے کر سویلین آبادی کو وہاں سے دور رہنے کی وارننگ جاری کر دی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
—
**آزاد صحافت کی حمایت کریں:** ایچ آراین ڈبلیو پر ہم حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپ کا تعاون ہمیں شفاف اور بے باک صحافت جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہی [hrnw.com/support-us](https://www.google.com/search?q=https://hrnw.com/support-us) پر جا کر ہماری حمایت کریں۔


