مجتبیٰ علی خامنہ ای اور علی لاریجانی کی لوکیشن دینے پرامریکا نے ایک کروڑ ڈالر انعام رکھ دیا

**واشنگٹن، امریکہ (ایچ آراین ڈبلیو)** — امریکہ نے ایران کی اعلیٰ سیاسی و مذہبی قیادت کے خلاف ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی رہنما مجتبیٰ علی خامنہ ای اور سابق اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی سمیت دیگر شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے **10 ملین ڈالر (ایک کروڑ ڈالر)** تک انعام کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی پروگرام Rewards for Justice Program کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد یا نیٹ ورکس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے جنہیں امریکہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جو شخص ان رہنماؤں یا ان سے وابستہ نیٹ ورک کی **موجودہ لوکیشن، نقل و حرکت یا سرگرمیوں سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے گا** اسے بھاری مالی انعام دیا جا سکتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق معلومات فراہم کرنے والوں کو **سیکورٹی تحفظ اور امریکہ میں منتقلی کی سہولت** بھی دی جا سکتی ہے۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب یعنی اسلامک ریولوشنری گارڈ کور سے ہے، جسے واشنگٹن پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی خطوں میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اس طرح کے اقدامات کو **سیاسی دباؤ اور پروپیگنڈا** قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور خطے میں سفارتی و سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

**Human Rights Media Network (HRNW) کی آزاد صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے ہماری معاونت کریں:**
**[https://hrnww.com/support-us]

اپنا تبصرہ بھیجیں