61

محصور غزہ کی سرزمین اس وقت ایک مکمل انسانی المیے کا منظر پیش کر رہی ہے

غزہ (ایچ آراین ڈبلیو) محصور غزہ کی سرزمین اس وقت ایک مکمل انسانی المیے کا منظر پیش کر رہی ہے، جہاں بچوں کی کراہیں اور ماؤں کی چیخیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔
ڈاکٹر محمد زقوت، ڈائریکٹر اسپتالانِ غزہ کے مطابق تقریباً 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت اور بیماریوں کا شکار ہیں۔ خوراک اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کے کمزور جسموں کو موت کی جانب دھکیل دیا ہے۔

مسلسل بند سرحدوں کے باعث غزہ کا پورا نظامِ صحت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اسپتال اب ایمرجنسی وارڈ نہیں بلکہ لاچار خاموشی کی جگہیں بن چکے ہیں — نہ مشینیں ہیں، نہ دوائیں، اور نہ ہی بنیادی طبی آلات۔ بعض اسپتالوں میں بچے صرف اس لیے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں کہ وہاں آکسیجن ٹیوب یا انکیوبیٹر تک میسر نہیں۔

اب تک 30 سے زائد بچے بھوک اور بری غذا کے باعث شہید ہو چکے ہیں، اور ہزاروں دیگر بچے محض موت کے انتظار میں ہیں۔ ایک دوا، ایک قافلہ، ایک راستہ کھلنے کی امید پر سانسیں گن رہے ہیں۔

المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا — قابض فوج کے جانب سے جان بوجھ کر اسپتالوں اور طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ درجنوں اسپتال تباہ ہو چکے، طبی عملہ یا تو شہید ہوا یا ملبے تلے دب گیا، اور مریض سڑکوں پر بے یار و مددگار پڑے ہیں۔

غزہ آج صرف اس لیے مر رہا ہے کہ قابض نے اس کے لیے دوا، غذا اور زندگی کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ یہ موت بیماری کی نہیں، بلکہ انسانیت کی خاموشی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں