51

تہران پر بمباری سے ہماری جنگی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی: ایرانی وزیر خارجہ کا ‘موزائیک دفاع’ پر اعتماد

**تہران (ایچ آراین ڈبلیو):** ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران پر ہونے والی حالیہ بمباری کے ردِعمل میں ایک دو ٹوک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کے فضائی حملوں سے ایران کی جنگی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے مشرق اور مغرب میں امریکی افواج کی ناکامیوں کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی قومی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا ہے۔

عباس عراقچی نے ایران کی غیر مرکزی **”موزائیک دفاع” (Mosaic Defense)** کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہمیں یہ طاقت دیتا ہے کہ ہم خود طے کریں کہ جنگ کب اور کس انداز میں ختم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران جیسے مراکز پر بمباری سے ایران کا دفاعی ڈھانچہ مفلوج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا نظام کسی ایک مرکز کے بجائے بکھری ہوئی اور خود مختار اکائیوں پر مشتمل ہے۔

### **موزائیک دفاع کیا ہے؟**

دفاعی ماہرین کے مطابق “موزائیک دفاع” ایک ایسی جدید اور پیچیدہ حکمت عملی ہے جو مہنگے اور بھاری ہتھیاروں کے بجائے مقدار میں زیادہ لیکن اسمارٹ اور سستے ہتھیاروں (جیسے ڈرونز اور چھوٹے میزائلز) پر انحصار کرتی ہے۔ اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں طاقت کسی ایک ہیڈ کوارٹر میں مرکوز نہیں ہوتی؛ اگر دشمن چند یونٹس یا مراکز کو تباہ بھی کر دے، تو بقیہ سینکڑوں یونٹس مکمل طور پر آزاد اور خود مختار طریقے سے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی “دفاعی دیوار” کو گرانا کسی بھی جدید ترین فوج کے لیے ناممکن حد تک مشکل ثابت ہوتا ہے۔
——-
خطے میں جاری اس بڑی جنگ اور دفاعی حکمتِ عملیوں سے متعلق درست معلومات تک رسائی کے لیے آزاد صحافت کا سہارا لیں۔ ہماری ٹیم کی مدد کے لیے یہاں کلک کریں: [hrnww.com/support-us]

اپنا تبصرہ بھیجیں