کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آج سندھ ہائی کورٹ میں پلاٹ نمبر 231-A بلاک 2 فیروز آباد پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں 1200 گز پر بنگلہ کے نقشہ B+G+1 کی جگہ ہر فلور پر آٹھ فلیٹس بنانے اور تینوں منزلوں پر 24 فلیٹس بنانے کے خلاف مقامی رہائشی کی آئینی درخواست نمبر 585/2026 کی سماعت ہوئی
درخواست گزار کے وکیل ندیم احمد جمال ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ بنگلہ کے نقشے پر درجنوں فلیٹس کی تعمیر نے تعمیراتی قوانین کا جنازہ نکال دیا ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کئی بار درخواستیں دینے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی
جس پر عدالت نے ایس بی سی اے جواب طلب کیا اور درخواست گزار کو انہیں پٹیشن کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ایس بی سی اے کو حکم نامہ جاری کیا کہ وہ دو ہفتے میں اس شکایت کی روشنی جو بھی تعمیراتی خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کو ختم کریں اور اپنی رپورٹ پیش کریں
بعدازان ایس بی سی اے کو وکیل کو پٹیشن کی کاپی فراہم کر دی گئی، کیس میں نوٹس کے بغیر ہی بلڈر نے اپنا وکیل کھڑا کر دیا تھا جس پر عدالت نے ان پر خفگی کا اظہار کیا کہ وہ بغیر نوٹس کس طرح اس کورٹ میں پیش ہوئے، بلڈر کے وکیل نے عدالت میں کچھ کہنے کی اجازت طلب کی تو معزز جسٹس عبدالمبین لاکھو نے بغیر نوٹس عدالت آنے پر انہیں کسی بھی قسم کی بات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا


