حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد میں صنعتوں کو مسلسل، مستحکم اور بلا تعطل گیس کی فراہمی سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی اولین ترجیح ہے۔ یہ بات جناب فاروق نظامانی، جنرل مینیجر ایس ایس جی سی، نے حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے دورے کے دوران کہی۔
چیمبر کے صدر سلیم میمن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں فاروق نظامانی نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کو کچھ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، لیکن مکمل بندش نہیں کی جاتی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض اوقات میٹر میں موجود کیمیکل ڈیوائس میں گیس کے ساتھ کچھ پارٹیکلز داخل ہو جاتے ہیں، جس سے ڈیوائس سست ہو جاتی ہے اور پریشر میں کمی واقع ہوتی ہے، تاہم حقیقی مسائل والے علاقوں میں سروے کے ذریعے مستقل حل فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں نو بجے کے بعد پریشر ڈراپ ہونے کے مسئلے پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پریشر فراہم کیا جا سکے۔ حیدرآباد کے صنعتی علاقوں میں تقریباً 13–14 ہزار ڈومیسٹک کسٹمرز موجود ہیں، جنہیں متوازن فراہمی کے ساتھ صنعتی شعبے کی ضروریات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
چیمبر کے صدر سلیم میمن نے کہا کہ گیس کی بلا تعطل اور مناسب فراہمی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حیدرآباد و سندھ کے صنعتی علاقوں میں گیس کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ سکندر علی راجپوت نے کہا کہ یہ مسائل نہ صرف کاروباری بقا بلکہ قومی معیشت اور روزگار کے لیے بھی سنجیدہ خطرہ ہیں۔ انہوں نے صنعتی علاقوں کے لیے علیحدہ مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنے، شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور چیمبر و ایس ایس جی سی کے درمیان باقاعدہ لائزن کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی۔
اس اجلاس میں پیٹرن ان چیف سیٹھ امین کھتری، احمد ادریس چوہان، شان سہگل اور دیگر ممبران بھی موجود تھے۔


