نئی دہلی (ایچ آراینڈبلیو) رافیل طیاروں کی اس ناکامی کے بعد ایئر مارشل ایس پی دھارکر نے نہ صرف پائلٹس کی تیاریوں پر سوال اٹھائے بلکہ مرکزی عسکری پالیسیوں پر بھی تنقید کرنے والے بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ برطرف
بھارت میں عسکری قیادت کے ڈھانچے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پہلگام فالس فلیگ واقعے کے بعد اب ایک اور ہنگامہ خیز تبدیلی نے بھارتی فوجی اداروں کی اندرونی کمزوریوں کو آشکار کر دیا ہے۔ مودی حکومت کو ایک اور دھچکا اُس وقت لگا جب بھارتی فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر مارشل ایس پی دھارکر کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا — وہ بھی صرف سات ماہ بعد۔
ذرائع کے مطابق ایئر مارشل دھارکر نے حکومت کی جنگجو پالیسیوں سے کھلے عام اختلاف کیا اور رافیل طیاروں کے حالیہ آپریشن میں پائلٹس کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان ظاہر کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر مداخلت نے رافیل طیاروں کو نہ صرف دفاعی پوزیشن پر مجبور کر دیا بلکہ بھارتی فضائیہ کی پوری حکمتِ عملی کو بے نقاب کر دیا۔
گزشتہ رات لائن آف کنٹرول پر رافیل طیاروں نے جارحانہ پروازیں کیں جن کا مقصد پاکستانی دفاعی نظام کو چیلنج کرنا تھا۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ جدید پاکستانی ریڈار سسٹمز نے بھارتی طیاروں کے مواصلاتی نظام کو جام کر دیا، جس کے نتیجے میں رافیل طیارے راستہ بھول گئے اور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی طرح ایک اور عبرت ناک ناکامی کا شکار ہو گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارتی فضائیہ کے لیے شرمندگی کا باعث بنی بلکہ حکومت کو بھی سخت دفاعی مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
رافیل طیاروں کی اس ناکامی کے بعد ایئر مارشل ایس پی دھارکر نے نہ صرف پائلٹس کی تیاریوں پر سوال اٹھائے بلکہ مرکزی عسکری پالیسیوں پر بھی تنقید کی، جس کے بعد انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ایئر مارشل نرمدیشور تیواری کو نائب فضائی سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے تاکہ بھارتی فضائیہ کے اندر بگڑتی ہوئی ہم آہنگی کو کچھ دیر کے لیے سہارا دیا جا سکے۔
یہ تنزلی اس وقت ہوئی جب چند روز قبل ہی شمالی کمان کے آرمی کمانڈر کو تبدیل کیا گیا تھا، جو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے ناکام انجام کے بعد ممکنہ ردِعمل تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت عسکری اداروں میں عدم اطمینان اور بے یقینی کو دبانے کے لیے تیز رفتار تبدیلیوں پر مجبور ہو چکی ہے۔


