67

سانگلہ ہل میں ریاستی غفلت عوام کے لیے موت کا پیغام بن چکی ہے

سانگلہ ہل(ایچ آراین ڈبلیو)متحدہ عوامی موومنٹ کے بانی و مرکزی چیئرمین صاحبزادہ حافظ فاران سہیل نے سانگلہ ہل میں جاری سنگین عوامی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کو دانستہ طور پر مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کی زندگی اجیرن اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانگلہ ہل آج بنیادی سہولیات کے فقدان، انتظامی نااہلی اور ریاستی بے حسی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ سانگلہ ہل میں ریلوے ٹریک پر فلائی اوور کی عدم تعمیر ایک مجرمانہ غفلت ہے۔ شہر کی تقریباً 75 فیصد آبادی گھنٹوں بند رہنے والے ریلوے پھاٹک کی یرغمال بنی ہوئی ہے، جہاں ایمبولینسیں، مریض، بزرگ اور خواتین پھاٹک پر کھڑے کھڑے دم توڑ دیتے ہیں۔ سرکاری ہسپتال، تھانہ سٹی، تھانہ صدر، اسسٹنٹ کمشنر آفس، زراعت اور لائیو اسٹاک جیسے اہم ادارے ریلوے ٹریک کے اُس پار واقع ہیں، اور پھاٹک بند ہوتے ہی پوری شہری آبادی عملاً قید ہو جاتی ہے۔ یہ محض ایک پھاٹک نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ریاستی بے حسی کی دیوار ہے۔صاحبزادہ حافظ فاران سہیل نے بیس سال قبل تعمیر کیے گئے ریلوے انڈر پاس کو “قاتل انڈر پاس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کرپشن، بددیانتی اور نااہلی کی زندہ مثال ہے۔ انڈر پاس مختلف ادوار میں فنکشنل کرنے کی ناکام کوششوں کے باوجود آج تک قابلِ استعمال نہیں ہو سکا، چند دنوں میں پانی سے بھر جاتا ہے اور متعدد انسانی جانیں نگل چکا ہے، مگر آج تک کسی ذمہ دار کو کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یا تو اس انڈر پاس کو فوری طور پر مکمل طور پر فنکشنل کیا جائے یا مستقل طور پر بند کر کے محفوظ متبادل راستہ فراہم کیا جائے۔مرکزی چیئرمین نے سانگلہ ہل کینال ایکسپریس وے کے درینہ مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم عوامی منصوبہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے فائلوں میں دفن ہے۔ سابق دورِ حکومت میں اس منصوبے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری ہو چکے تھے، وفاق کی جانب سے 50 فیصد فنڈ فراہم کیا گیا، جبکہ باقی 50 فیصد پنجاب حکومت کے ذمے تھا، مگر سیاسی عدم استحکام اور حکومتی غفلت کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی نمائندہ پنجاب اسمبلی اس منصوبے کے لیے اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھائیں یا محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) سے متعلقہ فائلیں حاصل کر کے پنجاب حکومت کا حصہ فنڈ دلوا کر منصوبے کی تعمیر فوری شروع کروائیں۔انہوں نے سانگلہ ہل میں قائم کیے جانے والے ماڈل بازاروں کے منصوبے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کے فنڈز مختص ہونے کے باوجود منصوبہ تاخیر اور سست روی کا شکار ہے۔ دوکاندار اپنی جیب سے دکانوں کی مینٹیننس کروانے پر مجبور ہیں، جبکہ مالی مجبوری کے شکار تاجروں کو ہراساں کرنے اور دکانیں سیل کرنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق منصوبے کی رفتار تیز کی جائے، فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے اور تاجروں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔صاحبزادہ حافظ فاران سہیل نے سانگلہ ہل میں ٹراما سنٹر کے قیام کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر اور گردونواح میں ایمرجنسی طبی سہولیات کا فقدان قیمتی انسانی جانیں نگل رہا ہے۔ شدید حادثات، دل کے دورے اور فائرنگ کے کیسز میں مریضوں کو فیصل آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ ریلوے پھاٹک کی بندش ایمبولینسوں کے لیے موت کا پیغام بن چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانگلہ ہل کے سول ہسپتال میں فوری طور پر جدید سہولیات سے آراستہ ٹراما سنٹر قائم کیا جائے۔آخر میں انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ سانگلہ ہل کے عوام خیرات نہیں، اپنا بنیادی حق مانگ رہے ہیں۔ ان تمام مسائل پر فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ متحدہ عوامی موومنٹ عوامی حقوق، انسانی جانوں کے تحفظ اور سانگلہ ہل کی ترقی کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں