52

موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران تاریخی پیش رفت، شہر کی حفاظتی فصیل دریافت

لاڑکانہ(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ کے قدیم اور عالمی شہرت یافتہ آثارِ قدیمہ کے مقام موہن جو دڑو میں جاری کھدائی کے دوران ماہرین نے ایک اہم تاریخی پیش رفت حاصل کرتے ہوئے شہر کی حفاظت کے لیے بنائی گئی دیوار (فصیل) دریافت کر لی ہے۔ ماہرین کے مطابق مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی ایک مضبوط حفاظتی دیوار موجود تھی، جو شہر کی منصوبہ بندی اور انتظامی نظام کا اہم حصہ رہی ہوگی۔

موہن جو دڑو میں یہ کھدائی پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے تحت جاری ہے، جس کی نگرانی امریکی ماہر آثارِ قدیمہ پروفیسر جوناتھن مرک کینویئر اور پاکستانی ماہر علی لاشاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1950 اور 1951 میں برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ سر مارٹر وہیلر نے اپنی تحقیق میں اس ساخت کو کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم نئی کھدائی اور زمینی تہوں کے شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی حفاظتی فصیل تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارت کو منظم کرنے، آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور شہر کے انتظامی و منصوبہ بندی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی، جو وادیٔ سندھ کی تہذیب کی اعلیٰ منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے اس اہم دریافت پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے نہ صرف تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ سیاحت کے شعبے کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

سید ذوالفقار علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاک–امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کی یہ کامیابی بین الاقوامی تعاون کی بہترین مثال ہے، اور سندھ حکومت آثارِ قدیمہ کے تحفظ، تحقیق اور فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں