سیالکوٹ(ایچ آراین ڈبلیو)تھانہ سول لائن کے علاقہ محلہ پاک پورہ میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے ایک کمسن بچی جو معمول کے مطابق محلے کی دکان سے اشیائے خوردونوش لینے نکلی تھی اسے اندازہ نہیں تھا کہ چند قدم کے فاصلے پر درندگی اس کی منتظر ہے۔
یہ جرم کسی ویرانے میں نہیں بلکہ ایک آباد محلے میں ہوا جہاں تین افراد نے معصومیت کو روند ڈالا ایک مکان کی چار دیواری میں صرف ایک بچی کی عزت پامال نہیں ہوئی بلکہ قانون کی عملداری اخلاقی اقدار اور معاشرتی تحفظ سب بے بس نظر آئے ایسے واقعات اس بات کا اعلان ہیں کہ مجرم خود کو بے خوف اور نظام کو کمزور سمجھنے لگے ہیں۔
واقعہ 23 جنوری 2026 کو پیش آیا اور متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کر لیا گیا تاہم مقدمہ درج ہونا انصاف کی تکمیل نہیں کیونکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں یہ تاخیر نہ صرف سوالات کو جنم دیتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے۔
علاقہ مکینوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک کمسن بچی دن دیہاڑے محفوظ نہیں تو پھر عام آدمی کے تحفظ کے دعوے محض الفاظ بن کر رہ گئے ہیں عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔


