گوجرانوالہ(ایچ آراین ڈبلیو)تھانہ واہنڈو کے نواحی علاقے قہر والے کے رہائشی چوہدری جمشید کمبوہ، چوہدری کبیر احمد کمبوہ اور دیگر علاقہ معززین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گاؤں کے بڑے زمیندار ہیں اور ان کے پاس سب سے زیادہ مویشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ذاتی ملکیتی اراضی گاؤں کے متعدد افراد کو رہائش کے لیے دی جبکہ مسجد کے لیے بھی اپنی زمین وقف کی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بزرگ حاجی اسماعیل کمبوہ نے تقریباً 70 سال قبل مسجد کے لیے زمین دی تھی، جو آج بھی ان کے نام پر درج ہے۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ گاؤں کے چند شرپسند عناصر مسجد کو شہید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کی آڑ میں کالعدم تنظیموں کو ذمہ داریاں سونپنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
چوہدری جمشید کمبوہ اور چوہدری کبیر احمد کمبوہ نے ڈی ایس پی کامونکی، آر پی او گوجرانوالہ، سی پی او گوجرانوالہ اور چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ مسجد کے معاملے کا فیصلہ میرٹ پر اور جلد از جلد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت فیصلہ نہ ہوا تو صورتحال سنگین نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔


