کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والا افسوسناک آتشزدگی کا واقعہ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا، اور تین دن تک انتظامی ادارے آگ پر قابو نہ پا سکے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر یہ حقیقت بے نقاب کرتا ہے کہ شہرِ قائد میں عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ بارہا نشاندہی کے باوجود کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا، ناقص بلڈنگ کنٹرول اور کرپشن پر مبنی نظام نے شہریوں کی جان و مال کو مستقل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ گل پلازہ میں آتشزدگی کوئی حادثہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فائر بریگیڈ کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ محض بیانات اور انکوائری کمیٹیوں سے عوام کو مزید دھوکہ نہ دیا جائے بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے مزید کہا کہ متاثرین کو فوری امداد اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے، جبکہ شہر بھر کی کمرشل اور رہائشی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ذمہ داران کو کٹہرے میں نہ لایا گیا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی پر عائد ہوگی۔


