ارسا نے بلوچستان کو ملنے والے پانی کی ٹیلی میٹری سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کی منظوری دے دی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے بلوچستان کو فراہم کیے جانے والے پانی کی نگرانی کے لیے ٹیلی میٹری سسٹم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ٹیلی میٹری پراجیکٹ کی پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی (PSC) کے اجلاس میں دی گئی، جس کی کارروائی کے منٹس باقاعدہ طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بین الصوبائی اعتماد کے تناظر میں پنجاب کی جانب سے ٹیلی میٹری سسٹم کے بیک وقت نفاذ کی درخواست پر سوالات اٹھائے گئے۔ اجلاس کے دوران یہ نکتہ زیر بحث آیا کہ اگر گڈو اور سکھر بیراجز پر گیٹس کی تبدیلی کا کام ٹیلی میٹری پراجیکٹ کی مدت سے آگے بڑھ گیا تو واپڈا اپنی کنٹریکچول ذمہ داریاں کس طرح پوری کرے گا، خاص طور پر اس لیے کہ گڈو اور سکھر بیراجز پر ٹیلی میٹری کا کام سندھ کے دائرۂ کار کا تقریباً 80 فیصد حصہ بنتا ہے۔

پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں واپڈا کی جانب سے پیش کیے گئے ورکنگ پیپر میں شامل تین نفاذی آپشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ واپڈا کنسلٹنٹس کی سفارشات کی بنیاد پر کمیٹی نے دوسرے آپشن کی منظوری دے دی، جس کے تحت کھیرتھر کینال اور پٹ فیڈر کینال کے کراس ریگولیٹرز پر جی پی ایس اور واٹر لیول سینسرز فراہم کیے جائیں گے۔

کنٹریکٹ ایگریمنٹ کے مطابق ان مقامات پر کنٹرول بلڈنگز اور سیکیورٹی ہٹس تعمیر کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بلوچستان کی صوبائی حدود میں کھیرتھر کینال اور پٹ فیڈر کینال پر میٹر فلیومز کی تعمیر، ان پر ڈبلیو پی آر (واٹر پروف ریکارڈر) اور واٹر لیول سینسرز کی تنصیب، اور قریبی کنٹرول رومز تک ڈیٹا کی بروقت ترسیل کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں پراجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کے سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد اور تازہ ترین صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، بالخصوص بلوچستان کی حدود میں پٹ فیڈر اور کھیرتھر کینالز پر میٹر فلیومز کی منتقلی سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔

چیئرمین ارسا کی اجازت سے چیف انجینئر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر انڈس ٹیلی میٹری، واپڈا نے ایجنڈا آئٹم پر اجلاس کو بریفنگ دی اور نظرِ ثانی شدہ پی سی ون کے تحت پراجیکٹ کے مقاصد پیش کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر اہم مقامات کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی نہروں کے کراسنگ پوائنٹس پر بھی آن لائن اور درست بہاؤ کی معلومات کی دستیابی ناگزیر ہے۔

محکمہ آبپاشی سندھ نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ پٹ فیڈر کینال اور کھیرتھر کینال (گڑنگ ریگولیٹر) پر موجودہ مقامات کو نظرِ ثانی شدہ پی سی ون میں واضح طور پر شامل کیا جا چکا ہے اور یہ مقامات ارسا کی نگرانی میں پہلے ہی منصفانہ پانی کی تقسیم کو یقینی بنا رہے ہیں، لہٰذا بین الصوبائی حدود پر سائٹس کی منتقلی غیر ضروری ہے۔

اس کے برعکس محکمہ آبپاشی بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ پٹ فیڈر اور کھیرتھر کینالز پر ٹیلی میٹری اسٹیشنز کو بین الصوبائی حدود پر منتقل کیا جائے، کیونکہ میٹر فلیومز کی تعمیر خاص طور پر اسی مقصد کے لیے پی سی ون میں شامل کی گئی تھی۔

حتمی فیصلے کے مطابق دوسرے آپشن کے تحت کھیرتھر کینال اور پٹ فیڈر کینال پر کنٹرول بلڈنگز اور گیج ریڈر ہٹس تعمیر کی جائیں گی، کراس ریگولیٹرز پر جی پی ایس اور واٹر لیول سینسرز فراہم کیے جائیں گے جبکہ بلوچستان کی حدود میں دونوں نہروں پر میٹر فلیومز بمعہ واٹر لیول سینسرز نصب کر کے باقاعدہ پیمائش کا نظام قائم کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں