75

حکومتِ سندھ کا بڑا ایکشن، کچی آبادیوں کی غیر قانونی ریگولرائزیشن منسوخ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)حکومتِ سندھ نے کچی آبادیوں کی غیر قانونی ریگولرائزیشن کے خلاف بڑا اور سخت اقدام کرتے ہوئے ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے دور میں جاری کیے گئے نوٹیفیکیشنز کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس ضمن میں ریحمان آباد، دلدار عمرانی گوٹھ اور یوسف گوٹھ کی کچی آبادی کی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔

محکمہ ہیومن سیٹلمنٹ کے مطابق یہ نوٹیفیکیشنز ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل جرار حسین نے عارضی چارج کے دوران جاری کیے تھے، جو اختیارات سے تجاوز اور قانونی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی تھے۔ جرار حسین کے پاس صرف روزمرہ کے انتظامی امور کا عارضی چارج تھا، تاہم انہوں نے 31 دسمبر 2025 کو تین بڑی بستیوں کو کچی آبادی قرار دینے کے نوٹیفیکیشنز جاری کر دیے۔

محکمہ ہیومن سیٹلمنٹ کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوٹیفیکیشنز زمین کے اصل مالکان سے این او سی حاصل کیے بغیر اور متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر جاری کیے گئے، جو کہ بدنیتی پر مبنی تھے۔ ان غیر قانونی اقدامات کے پیش نظر حکومتِ سندھ نے 6 جنوری 2026 کو آفس آرڈر کے ذریعے تمام نوٹیفیکیشنز فوری طور پر منسوخ کر دیے۔

سیکریٹری ہیومن سیٹلمنٹ نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے، جبکہ بغیر منظوری اور قانونی ضابطوں کے کچی آبادیاں نوٹیفائی کرنے کے معاملے پر باقاعدہ انکوائری کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

ادھر حکومتِ سندھ نے ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی میں انتظامی اصلاحات کے تحت 14 جنوری 2026 کو اطہر حسین میرانی (BS-20) کو نیا مستقل ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اطہر حسین میرانی فوری طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومتِ سندھ کا یہ اقدام غیر قانونی قبضوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کچی آبادیوں کے نام پر ہونے والی بدعنوانی کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید کارروائی بھی متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں