قصور(ایچ آراین ڈبلیو) جعلی سرکاری نوکریوں کے نام پر بڑے مالی فراڈ کا ایک اور اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں تقریباً پچاس لاکھ روپے ہتھیانے کا انکشاف ہوا ہے۔ متاثرہ شہریوں نے اینٹی کرپشن قصور میں باقاعدہ درخواستیں جمع کروائی ہیں، جن میں ایک منظم گینگ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس کیس میں رانا حشنام صابر کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران میڈم صدف (اے ای او شالیمار) کا نام بھی مبینہ طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ شاویز عرف ببی، سکنہ ٹھینگ موڑ، اور رانا فرمان بھی تفتیش کی زد میں ہیں۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے سادہ لوح اور بے روزگار افراد کو مختلف سرکاری محکموں میں نوکری دلوانے کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم وصول کیں، مگر نہ تو انہیں ملازمت فراہم کی گئی اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
اینٹی کرپشن حکام نے بتایا کہ ابتدائی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
متاثرہ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی نوکریوں کے اس نیٹ ورک میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو لوٹنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔


