65

موٹرسائیکل اور کاروں کے جرمانوں کا ازسرِنو جائزہ ایک ہفتے میں پیش کیا جائے، وزیر داخلہ سندھ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ میں ٹریفک مینجمنٹ اور ای چالان سسٹم بہتر بنانے کے لیے جائزہ کمیٹی برائے ای چالان/ٹریکس کا اہم اجلاس چیئرمین کمیٹی و وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹریفک قوانین کے نفاذ، ٹریکس سسٹم، شہریوں کے لیے سہولیات اور جرمانوں کے ڈھانچے سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اراکین سندھ اسمبلی آصف خان، فاروق اعوان، سعدیہ جاوید، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، افتخار عالم، طحہ احمد، شبیر قریشی، آصف موسیٰ، سیکریٹری قانون، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک نے شرکت کی۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے شرکا کو ای چالان، ٹریفک مینجمنٹ اور نئے ٹریفک قانون کے نفاذ سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں ارکان نے ٹریکس سسٹم پر اپنی آراء بھی پیش کیں۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے چالان کی رقوم میں کمی کی تجویز پیش کی، جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واضح کیا کہ ای چالان کا قانون بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ بغیر نمبر پلیٹ یا غیر رجسٹرڈ بھاری گاڑیوں کو فوری طور پر تحویل میں لیا جائے اور دو ماہ کے اندر تمام بھاری گاڑیوں میں ٹریکرز نصب کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے غیر معیاری نمبر پلیٹس والی گاڑیوں، ریوالونگ لائٹس کی غیر قانونی فروخت اور گاڑیوں کے شیشے کالے کرنے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا۔

انہوں نے کہا کہ “کراچی پاکستان ہے، یہاں کے مسائل کا حل مقامی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔” اجلاس میں ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے ٹریفک پولیس میں ’’سفیر سیکشن‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کے تحت معروف کھلاڑی اور شخصیات عوام کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دیں گی۔

وزیر داخلہ نے کراچی میں 400 نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب کے لیے جامع سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹریفک مینجمنٹ کمیٹی کے قیام، ای چالان کی آن لائن ادائیگی اور شکایات کے اندراج کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا بھی اعلان کیا۔

وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت جاری کی کہ موٹرسائیکل اور کاروں کے جرمانوں کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے سفارشات ایک ہفتے کے اندر پیش کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک نظام کو مؤثر، شفاف اور شہریوں کے لیے آسان بنانا حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں