67

خاتون پر گھریلو تشدد کیس کا فیصلہ: عدالت نے شوہر اور دو دیوروں کو بری کر دیا، قانون کی خامیوں پر سنگین ریمارکس

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل نے گھریلو تشدد کے ایک حساس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کے **شوہر اور دو دیوروں** کو **بری** کر دیا، تاہم فیصلے میں **قانونی خلا اور گھریلو تشدد سے متعلق قوانین کی ناکافی حیثیت** پر سخت ریمارکس دیے گئے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق **32 سالہ صبا انجم** نے شادی کے **سات ماہ بعد پنکھے سے لٹک کر خودکشی** کر لی تھی۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت **کمرہ اندر سے بند تھا**، جس کی بنیاد پر عدالت نے واقعے کو **خودکشی** قرار دیا۔

ملزموں میں **شوہر شیراز** اور اس کے دو بھائی **فراز اور ایاز** شامل تھے، جن کے خلاف تھانہ **خواجہ اجمیر نگری** میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر **اخلاقی طور پر ذمہ دار** ہے، تاہم موجودہ پاکستانی قانون کے تحت اسے **قانونی سزا دینا ممکن نہیں**۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صبا انجم نے **خودکشی سے قبل لکھے گئے خط میں گھریلو تشدد کا ذکر** کیا تھا، اور یہ بھی واضح کیا کہ شوہر **بیوی کو سسرالی ظلم سے بچانے میں ناکام رہا**۔ اس کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ **بھائیوں کے خلاف براہِ راست شواہد موجود نہ ہونے** کے باعث انہیں بری کیا جاتا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ **پاکستانی قانون خودکشی پر اکسانے والوں کو مؤثر سزا دینے سے قاصر ہے**، جس کے باعث ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکی۔ عدالت نے اس ضمن میں **بھارتی تعزیراتی قانون کی دفعات 306 اور 498-A** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کے تحت ایسے مقدمات میں مؤثر قانونی کارروائی ممکن ہوتی ہے۔

عدالت نے **سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ** کو بھی **ناکافی** قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت سزائیں **انتہائی کم** ہیں اور وہ متاثرہ خواتین کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پاتیں۔

فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ:
“کئی خواتین ظلم سہتی ہیں، کچھ بچ نکلتی ہیں اور کچھ جان دے دیتی ہیں، مگر قانون کی کمزوری کے باعث انصاف فراہم کرنا ممکن نہیں ہو پاتا۔”

دوسری جانب، **پراسیکیوٹر حنا ناز** نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر کا رویہ **غیر حفاظتی، غفلت پر مبنی اور ذمہ داری سے عاری** تھا، تاہم قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث سزا ممکن نہ ہو سکی۔

یہ فیصلہ ایک بار پھر پاکستان میں **گھریلو تشدد، خواتین کے تحفظ اور قانون سازی کی خامیوں** پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، اور قانون میں اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں