کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل نے گھریلو تشدد کے ایک حساس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کے **شوہر اور دو دیوروں** کو **بری** کر دیا، تاہم فیصلے میں **قانونی خلا اور گھریلو تشدد سے متعلق قوانین کی ناکافی حیثیت** پر سخت ریمارکس دیے گئے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق **32 سالہ صبا انجم** نے شادی کے **سات ماہ بعد پنکھے سے لٹک کر خودکشی** کر لی تھی۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت **کمرہ اندر سے بند تھا**، جس کی بنیاد پر عدالت نے واقعے کو **خودکشی** قرار دیا۔
ملزموں میں **شوہر شیراز** اور اس کے دو بھائی **فراز اور ایاز** شامل تھے، جن کے خلاف تھانہ **خواجہ اجمیر نگری** میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر **اخلاقی طور پر ذمہ دار** ہے، تاہم موجودہ پاکستانی قانون کے تحت اسے **قانونی سزا دینا ممکن نہیں**۔
فیصلے میں کہا گیا کہ صبا انجم نے **خودکشی سے قبل لکھے گئے خط میں گھریلو تشدد کا ذکر** کیا تھا، اور یہ بھی واضح کیا کہ شوہر **بیوی کو سسرالی ظلم سے بچانے میں ناکام رہا**۔ اس کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ **بھائیوں کے خلاف براہِ راست شواہد موجود نہ ہونے** کے باعث انہیں بری کیا جاتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ **پاکستانی قانون خودکشی پر اکسانے والوں کو مؤثر سزا دینے سے قاصر ہے**، جس کے باعث ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکی۔ عدالت نے اس ضمن میں **بھارتی تعزیراتی قانون کی دفعات 306 اور 498-A** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کے تحت ایسے مقدمات میں مؤثر قانونی کارروائی ممکن ہوتی ہے۔
عدالت نے **سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ** کو بھی **ناکافی** قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت سزائیں **انتہائی کم** ہیں اور وہ متاثرہ خواتین کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر پاتیں۔
فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ:
“کئی خواتین ظلم سہتی ہیں، کچھ بچ نکلتی ہیں اور کچھ جان دے دیتی ہیں، مگر قانون کی کمزوری کے باعث انصاف فراہم کرنا ممکن نہیں ہو پاتا۔”
دوسری جانب، **پراسیکیوٹر حنا ناز** نے مؤقف اختیار کیا کہ شوہر کا رویہ **غیر حفاظتی، غفلت پر مبنی اور ذمہ داری سے عاری** تھا، تاہم قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث سزا ممکن نہ ہو سکی۔
یہ فیصلہ ایک بار پھر پاکستان میں **گھریلو تشدد، خواتین کے تحفظ اور قانون سازی کی خامیوں** پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، اور قانون میں اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔


