کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں شہر میں بڑھتی ہوئی بھتہ خوری اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل زیرِ بحث آئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ سندھ میں زمینوں پر قبضے اور بھتہ خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
آباد کے وفد کی قیادت حسن بخشی نے کی جبکہ وفد میں افضل حمید، حنیف گوہر اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔ اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی سمیت دیگر سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔
ملاقات کے دوران آباد کے وفد نے وزیراعلیٰ کو بھتہ خوری کی پرچیاں اور ان نمبرز کی تفصیلات فراہم کیں جن سے مبینہ طور پر بیرونِ ملک سے بھتے کے لیے کالز کی جا رہی ہیں۔ وفد نے بلڈرز اور ڈیولپرز کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے آباد کی حالیہ پریس کانفرنس دیکھی تھی اور ان کا خیال تھا کہ یہ معاملہ براہِ راست ان کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں کسی بھی جگہ زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
آباد کے نمائندوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے بعد نئی زمینوں پر قبضوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ پرانے قبضے ختم کرنے کے لیے بھی حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی کو بھتہ کی پرچی دی جائے یا کال موصول ہو تو فوری طور پر وزیر داخلہ اور متعلقہ حکام سے رجوع کیا جائے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ آباد کی ہر شکایت پر فوری کارروائی کی جائے۔
وزیر داخلہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھتہ خوری کے 10 بڑے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے 50 بھتہ خوروں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جبکہ پولیس مقابلوں میں 6 ملزمان مارے گئے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اس شہر سے بھتہ خوروں کا خاتمہ کیا تھا اور اب بھی انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے بیرونِ ملک بیٹھ کر بھتہ خوری کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔


