58

سقوطِ ڈھاکہ: ایک تاریخی المیہ اور آج کے لیے سبق

ڈھاکہ(ایچ آراین ڈبلیو)16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک دن ہے، جب بنگال میں فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں بےگناہ شہری شہید اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ سقوطِ ڈھاکہ اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کے ناجائز استعمال، آئینی اصولوں کی خلاف ورزی اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنا کس قدر مہلک نتائج لا سکتا ہے۔

یہ المیہ اس وقت پیش آیا جب سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، منتخب قیادت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور عوامی حقوق پامال کیے گئے۔ بعض عسکری اور سیاسی عناصر کی مشترکہ غلطیوں نے نہ صرف بنگالی عوام کو نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کی قومی سالمیت کو بھی شدید دھچکا دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جبر اور ظلم سے قومیں کمزور اور تقسیم شدہ ہو جاتی ہیں۔

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے ممبر کے مطابق آج بھی ہمیں سیاسی عدم برداشت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عوامی آواز کو دبانے جیسے مسائل پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ یہ مسائل ملک کو اندر سے کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انصاف، شفافیت، جمہوری عمل اور شہری حقوق کا احترام ملک کے لیے ناگزیر ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ کا پیغام واضح ہے: قومیں جبر سے نہیں، بلکہ انصاف اور انسانی وقار کے احترام سے مضبوط ہوتی ہیں۔ یاد دہانی کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کے ذریعے ایک مضبوط، پرامن اور متحد پاکستان کی تعمیر پر کام کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں