کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن عامر صدیقی نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ٹھٹہ اور سانگھڑ میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے وفاق سے مکمل فنڈنگ حاصل کر رہی ہے، تاہم کراچی–حیدرآباد موٹروے کے لیے کبھی وفاق کو خط تک نہیں لکھا گیا۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عامر صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت کو جو فنڈز ملتے ہیں وہ عوامی ترقی کے بجائے زمینوں کی بندربانٹ میں استعمال ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی سے سکھر تک موٹروے منصوبے میں مٹھیاری اسکینڈل سامنے آیا اور اس منصوبے کا بیشتر پیسہ سندھ حکومت نے مبینہ طور پر ہڑپ کر لیا۔
ایم کیو ایم رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب صوبے کے پاس 200 ارب روپے موجود ہیں تو کیا ان وسائل سے موٹروے تعمیر نہیں کی جا سکتی؟ انہوں نے کہا کہ ہم بار بار وفاق کی طرف کیوں دیکھتے ہیں، صوبائی حکومت خود بھی بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کر سکتی ہے۔
عامر صدیقی نے بتایا کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر سندھ حکومت کراچی–حیدرآباد موٹروے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو یہ ذمہ داری ہمیں دے دے، ہم وفاق سے بنوا کر دکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سندھ حکومت کا وزیراعلیٰ کراچی–حیدرآباد موٹروے کے لیے وفاق سے بات تک نہیں کر پا رہا، جبکہ ٹھٹہ اور سانگھڑ کی سڑکوں کے لیے مکمل فنڈنگ حاصل کی جا رہی ہے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی سہولیات کے بجائے صرف اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نہیں چاہتی کہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو بہتر سڑکیں اور مؤثر سہولیات ملیں، بلکہ وہ صرف انہی منصوبوں پر بات کرتی ہے جہاں اس کے اپنے مفادات وابستہ ہوں۔


