کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — شہر میں **بے لگام ڈمپر، ٹرالر اور واٹر ٹینکر کے حادثات** اور **کلچر ڈے کے موقع پر ہونے والی دہشت گردی** کے پیش نظر کراچی کی تمام تنظیمی کمیٹیوں کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے **چیئرمین آفاق احمد** نے کہا کہ **رواں سال اب تک 806 افراد** ڈمپر، ٹرالر اور ٹینکر کی زد میں آکر جان کی بازی ہار چکے ہیں، لیکن حکومت کی روش سے کہیں نہیں لگتا کہ انہیں شہری جانوں کے ضیاع پر کوئی تشویش ہے یا وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
آفاق احمد نے کہا کہ **مہاجر قومی موومنٹ** کی یہ تجویز ہے کہ جب تک **ہیوی ٹریفک کی قانونی ملکیت ثابت نہ ہو، شہر میں داخلے پر پابندی لگائی جائے** اور تمام ہیوی وہیکلز کے لیے **لائسنس لازمی قرار دیا جائے**۔ مگر چونکہ تقریباً تمام ہیوی وہیکل حکومت کے بااثر افراد کی ملکیت ہیں اور **نان کسٹم پیڈ** ہیں، اس لیے قوانین پس پشت ڈال کر شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
چیئرمین نے مزید کہا کہ کراچی کے شہریوں سے ان کا پانی **چوری کرکے بیچا جاتا ہے** اور شہری اسے خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ **غیر قانونی ہائیڈرنٹ مکمل طور پر بند** کیا جائے اور صرف **رجسٹرڈ اور فٹنس سرٹیفکیٹ والے واٹر ٹینکر** کو پانی فراہم کرنے کی اجازت ہو۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مہاجر قومی موومنٹ **اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جس میں عوام کے ساتھ ہائیڈرنٹ کا گھیراؤ بھی شامل ہوگا**۔
آفاق احمد نے سندھی اجرک ڈے کے دوران **توڑ پھوڑ، املاک کو نقصان اور ملک کے خلاف نعرے بازی** کے حوالے سے بھی کہا کہ عدلیہ کا کردار مناسب نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتدرہ حلقوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور عوام کو کسی اقدام سے پہلے **مقتدرہ قوتوں کے فیصلوں کا انتظار کرنا چاہیے**۔
—
### 🌐 **شہری حقوق اور عوامی تحفظ کے لیے تعاون کریں**
آپ کا تعاون عوامی شعور، شہری حفاظت اور قانونی اقدامات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
👉 **عطیہ دیں: [hrnww.com/donate-us](https://hrnww.com/donate-us)**


