67

ایران اور افغانستان سے درآمدات کے لیے ’امپورٹ فارم‘ کی شرط ختم کرنے اور موجودہ بارٹر ٹریڈ پالیسی پر نظرثانی کی تجویز

کوئٹہ (ایچ آراین ڈبلیو) ایران سے آنے والے 1200 ٹرک پاکستان-ایران سرحد پر پھنسے ہونے کے معاملے پر وزارت تجارت نے وفاقی کابینہ میں ایک نئی سمری پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ایران اور افغانستان سے درآمدات کے لیے ’امپورٹ فارم‘ کی شرط ختم کرنے اور موجودہ بارٹر ٹریڈ پالیسی پر نظرثانی کی تجویز دی گئی ہے۔بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ پیشرفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت اور قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے پہلے مشترکہ اجلاس میں ہوئی، جس کا مقصد ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے بڑھتے مسائل کو حل کرنا تھا۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ وہ نئی سمری میں بارٹر ٹریڈ کے تحت ایران سے درآمدات کو امپورٹ پالیسی آرڈر کے برابر حیثیت دے۔

اجلاس کے دوران ایف بی آر کے ایکٹنگ ممبر کسٹمز نے انکشاف کیا کہ پاکستانی کسٹمز کو کسی 1200 ایرانی ٹرک کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ہم سے کسی نے کلیئرنس کے لیے رجوع نہیں کیا، اس لیے ہمیں ایسے کسی مسئلے کا علم نہیں‘۔وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ کابینہ کے لیے سمری پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے منظوری لے چکی ہے، تاہم ایف بی آر کی جانب سے تاحال رائے موصول نہیں ہوئی۔

بعد ازاں ایف بی آر نے وضاحت دی کہ ’امپورٹ فارم‘ کی چھوٹ کا اختیار وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک کے پاس ہے، اور انہیں آپس میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں