کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کراچی کے علاقے ملیر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایک قرارداد منظور ہوئی، جس کے بعد ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی۔ ایم کیو ایم کے پاس سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کے حل موجود ہیں اور کراچی میں بسنے والی تمام قومیتیں ایم کیو ایم سے امید رکھتی ہیں۔
انہوں نے عوامی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: “یہاں سر اٹھا کر جینا ہے یا سر جھکا کر؟ غلامی کا طوق پہننا ہے یا اتار کر پھینکنا ہے؟” ڈاکٹر فاروق ستار نے ظلم اور مظلوم کے فرق پر زور دیا اور کہا کہ مظلوموں کا بھی صبر کبھی کبھار غلط ثابت ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کراچی کی بنیادی سہولیات کی حالت پر افسوس ظاہر کیا: “کراچی میں گھروں تک پانی نہیں آ رہا، گلیوں میں گٹر کا پانی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ کراچی 16 ہزار ارب ٹیکس دیتا ہے لیکن فی الحال اسے صرف 50 ارب ملے ہیں، اور کے فور کا پانی اگلے سال کراچی پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چار حل ہیں: شہر کے مسائل کا حل اور اختیار نچلی سطح پر دیا جائے، ورنہ عوام کو گھروں سے نکلنا پڑے گا۔
انہوں نے سندھ کے شہروں کے لیے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا: “سندھ کو 25 ہزار ارب اور میئر کو 5 ہزار ارب ملے ہیں، ہمیں ان کا حساب چاہیے۔ اگر کراچی کے لیے کچھ نہیں کرنا، تو اسے وفاق کے حوالے کر دیا جائے۔”
ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی کے سیاسی طور پر سات اضلاع بنائے گئے ہیں اور انتظامی طور پر چھ ڈویژن پر صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات نہیں، بلکہ انتظامی یونٹس پر صوبہ بنانے کا مقصد ہے۔
انہوں نے کہا: “وڈیرے اور جاگیر دار پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔”


