کراچی (ایچ آر این ڈبلیو)— **سندھ پولیس کی یونیفارم کی خریداری** میں **1.57 ارب روپے** مالیت کی **بڑی بے ضابطگیاں** سامنے آئی ہیں۔ یہ انکشاف **آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP)** کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا، جو منگل کے روز 24 نیوز ایچ ڈی کی رپورٹ میں نشر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، **آئی جی سندھ کے دفتر** نے **غیر قانونی اقدامات** کیے اور خریداری کے عمل میں **قوانین کی متعدد بار خلاف ورزیاں** کیں۔ 2023-24 میں یونیفارم خریداری کے دوران **پلان اور بولی کی تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کی گئیں**، جو قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید انکشاف ہوا کہ **خریداری کمیٹی میں صرف محکمہ پولیس کے افسران** شامل تھے، حالانکہ قواعد کے مطابق دیگر محکموں کی نمائندگی بھی لازمی تھی۔ اسی طرح، **جیل حکام سے این او سی (NOC)** حاصل کیے بغیر خریداری کی گئی، جو ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ **یونیفارم اور کپڑوں کی خریداری میں سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی**، جس سے **قومی خزانے کو بھاری نقصان** پہنچا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ **اکتوبر 2024** میں سامنے آیا، تاہم **آئی جی سندھ کے دفتر نے کسی قسم کا جواب جمع نہیں کرایا**۔
آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں **ذمہ دار افسران کی نشاندہی اور ان کے خلاف سخت کارروائی** کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ اب **سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC)** کو بھجوا دی گئی ہے تاکہ اس سنگین مالی بے ضابطگی کی باضابطہ تحقیقات شروع کی جا سکیں۔


