95

اربوں کی کرپشن بے نقاب کرنے کی “جُرأت” پر بلوچستان کے سیکرٹری صحت کا تبادلہ — اصلاحات اور احتساب کو کاری ضرب

کوئٹہ (ایچ آر این ڈبلیو) — بلوچستان کے سیکرٹری صحت **داؤد خان خلجی** کو **اربوں روپے کی کرپشن کی فائلیں کھولنے کی جُرأت** پر اچانک عہدے سے **تبدیل کر دیا گیا**۔ ذرائع کے مطابق ان کا تبادلہ **اختلافِ رائے اور کرپشن کیسز میں پیش رفت** کے باعث کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ **حکومتِ بلوچستان کی جانب سے ایک نہایت خطرناک اور مایوس کن پیغام** ہے — کہ صحت جیسے حساس شعبے میں بھی اب **سیاسی انتقام، اقربا پروری اور ذاتی انا** کا کھیل جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی کسی قسم کی **اصلاحات یا احتساب** کا حصہ نہیں بلکہ **ایک ایماندار افسر کو سزا دینے** کی کوشش ہے، جس نے کرپشن کے خلاف آواز بلند کی۔ موجودہ صوبائی حکومت جو خود سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، **عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ** میں مصروف ہے۔

ادھر **صحت کے سنگین مسائل** بدستور نظرانداز ہیں:

* اربوں روپے کی کرپشن فائلوں کو دبانے کی کوشش،
* ہسپتالوں سے ادویات غائب،
* بنیادی صحت مراکز کی تباہی،
* اور کرپٹ مافیا کے خلاف خاموشی۔

جونہی سیکرٹری نے کرپشن کے خلاف کارروائی کی کوشش کی، **وزیر کی “نافرمانی” پر فوری طور پر تبادلہ کر دیا گیا۔** یہ اقدام بیوروکریسی کے لیے **ایک کھلا پیغام** ہے: “وزیر کی ہاں میں ہاں ملاؤ، کرپشن چھپاؤ، ورنہ گھر جاؤ!”

اس رویے سے اب کوئی ایماندار افسر اصلاحات کی ہمت نہیں کرے گا — سب چاپلوسی کو ہی نجات سمجھیں گے۔ نتیجتاً **بلوچستان کا صحت نظام مزید برباد** ہو جائے گا۔

بلوچستان میں پہلے ہی **ماں اور بچے کی اموات کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ** ہے، ہسپتالوں میں **بیڈ اور ادویات کی کمی** ہے، مگر حکومت اس سب کے بجائے افسران کی تبدیلیوں کو “ایکشن” کا نام دے رہی ہے۔ یہ دراصل **ایک ڈھونگ اور سیاسی تماشہ** ہے۔

اگر حکومت واقعی عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو **کرپٹ عناصر کو سزا دے، لوٹی ہوئی دولت واپس لائے، اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائے،** نہ کہ ایماندار افسران کو قربانی کا بکرا بنائے۔

عوام اب یہ حقیقت جان چکے ہیں:
یہ کوئی “تبدیلی” نہیں — **وہی پرانی لوٹ مار، وہی کرپشن، وہی نااہلی — صرف نیا چہرہ اور نیا لیبل!**

👉 **انصاف اور شفافیت کے لیے ہمارا ساتھ دیں:** [**hrnww.com/donation**](https://hrnww.com/donation)

اپنا تبصرہ بھیجیں