120

غیر معیاری سروس: 5 سال میں ٹیلی کام کمپنیوں پر 68.9 ملین روپے جرمانے

اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو) — سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں پر **غیر معیاری سروس** فراہم کرنے کے الزام میں **68.9 ملین روپے** کے جرمانے عائد کیے گئے۔

دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں **9 ہزار موبائل سائٹس** نیٹ ورک دستیابی کے مسائل سے دوچار ہیں۔ نیٹ ورک کی کمزوری کی بنیادی وجوہات میں **طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی کی محدود دستیابی، چوری اور تخریب کاری کے واقعات** شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ **خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان** میں ٹیلی کام سروس کا معیار **خطرناک حد تک گر چکا ہے**۔ آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک کی دستیابی لائسنس میں طے کردہ معیار تک نہیں پہنچ پائی۔

دستاویز کے مطابق رواں برس کی پہلی ششماہی میں پی ٹی اے کو **8 ہزار سے زائد شکایات** موصول ہوئیں، جن میں سے **99.17 فیصد** شکایات کا ازالہ کیا گیا۔

پی ٹی اے نے پچھلے پانچ برسوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کو غیر معیاری سروس پر **39 شوکاز نوٹس، 17 وارننگ لیٹرز** اور بھاری جرمانے جاری کیے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سروس کے معیار کی خلاف ورزی پر آپریٹرز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ **کم سروس والے علاقوں کی فوری نشاندہی** کریں تاکہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں