واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو) امریکی حکومت نے فلسطین سے متعلق طلبہ کے مؤقف پر قدغن لگانے سے انکار پر ہارورڈ یونیورسٹی کی 2.3 ارب ڈالر کی امداد معطل کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق، اس میں 2.2 ارب ڈالر کی گرانٹس اور 60 ملین ڈالر کے حکومتی معاہدے شامل ہیں۔
امداد کی بندش اس وقت سامنے آئی جب ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کی ان ہدایات کو ماننے سے انکار کر دیا جن کے تحت طلبا و اساتذہ کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی، بین الاقوامی طلبہ کی خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ، اور ادارے میں بیرونی نگرانی کے نظام کی تنصیب کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ہارورڈ کے قائم مقام صدر ایلن گاربر نے ان اقدامات کو آئینی آزادیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا: “کسی حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ نجی ادارے کو بتائے کہ وہ کیا پڑھائے، کن موضوعات پر تحقیق کرے یا کس کو داخلہ دے۔”
یاد رہے کہ مارچ 2025 میں ہارورڈ کیمپس میں دجالی ریاست کے مظالم کے خلاف طلبا کے احتجاج اور ادارے کی غیرجانبداری پر تنقید کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی 8.7 ارب ڈالر کی مزید ممکنہ گرانٹس کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کا عندیہ دیا تھا۔
ہارورڈ یونیورسٹی کا شمار امریکا کی سب سے امیر اور بااثر جامعات میں ہوتا ہے، اور اس اقدام سے تعلیمی آزادی کے خلاف حکومتی دباؤ کا نیا باب کھل گیا ہے۔


