121

سندھ میں بیوروکریسی کے اندر بڑے اسکینڈل کا انکشاف

راولپنڈی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) میں اسسٹنٹ مختیارکاروں کی بھرتیوں کے دوران بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ دعوے ہیں کہ 147 نئے افراد کو بھاری رشوتوں کے عوض بھرتی کیا گیا، جبکہ 150 سے زائد پرانے افسران ترقی کے باوجود عہدے کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، پرانی اور نئی دونوں اقسام کے افسران مسائل کا شکار ہیں۔ 2005 میں بھرتی ہونے والوں کو 20 سال بعد ترقی ملی، جبکہ نئے بھرتی ہونے والوں سے فی کس 80 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر نسلی بدعنوانی کو فروغ دینے اور شفافیت کی دشمنی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس قدر ملک دشمنی کی اجازت کس نے دے رکھی ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں