اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان میں مختلف شعبوں میں ٹیکس چوری ہوتی ہے تاہم ایک شعبے میں سالانہ 30 ارب کا ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت خزانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیاں نے بریفنگ دیتے ہوئے ٹیکس چوری سے متعلق بریفنگ دی۔
راشد لنگڑیاں نے بتایا کہ ٹائل سیکٹر میں سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ 30 ارب روپے کا ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے اور ایف بی آر نے 17 شعبوں کی پیداوار میں سیلز ٹیکس چوری روکنے کے لیے کیمرہ مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹائلز سیکٹر کی مانیٹرنگ کیلیے 16 کی بجائے 4 مانیٹرنگ کیمرے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر ٹائلز مینوفیکچررز کمپنیوں نے کیمرے نہ لگائے تو انڈسٹری بند کر دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹائلز مینوفیکچرنگ کمپنیاں پیداوار کی غلط معلومات فراہم کرتی ہیں جس پر اعتماد نہیں۔ ٹائلز سیکٹر کے ہر ٹائل کی مینوفیکچررنگ کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ ٹائلز مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں کیلن، پیکجنگ اور ان اینڈ آؤٹ پر مانیٹرنگ کیمرہ لگائیں گے۔
راشد لنگڑیال نے یہ بھی کہا کہ وزرا کی شوگر ملز ہیں وزیراعظم نے ہدایات دیں کہ سب کی مانیٹرنگ کی جائے، تو سب سے پہلے شوگر ملوں کی پیداوار کی مانیٹرنگ کے لیے کیمرے لگائے۔ رواں مالی سال شوگر سیکٹر سے 76 ارب اور سیمنٹ سیکٹر سے 102 ارب اضافی وصول ہوں گے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ رواں ماہ کے دوران بھی ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال ہو سکتا ہے۔ جنوری سے ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کیلیے تاحال اضافی ٹیکس اقدامات کا فیصلہ نہیں کیا۔


