111

27 ویں آئینی ترمیم پرمصطفی کمال نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا بھی شکر گزار ہوں-پی ٹی آئی ،ن لیگ کے دوستوں کا بھی شکریہ جنھوں اس کی سپورٹ کی-27 ویں آئینی ترمیم پر جہاں بات ہورہی تھی وہاں ہم نے اس بل کا مقدمہ جیت لیا-

یہ بل آج بھی ژندہ ہے-جب یہ بلدیاتی بل پاس ہوگا اس کا فایدہ پورے پاکستان کے عوام کے پہنچے-وزیر اعظم شہباز شریف رانا تنویر ،خواجہ آصف کا شکریہ جنھوں اس بل کو بھرپور سپورٹ کیا-

میں پاکستان اورپاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں-آپ کو بتا رہا ہوں کئی سالوں سے ایم کیو ایم نے آج کے مسائل کا آئینی حل نکالا-پاکستان کی کونسی پارٹی ہے جس کے پاس ہم نہیں گئے-الیکشن کے بعد حکومت میں شامل ہونے کی آفر ہوئی ہم ایک نکاتی ایجنڈے پر قائم رہے-ہم نے 2024 کو ون پوائنٹ پر ایجنڈے پر بات کی حکومت سے ہم نے ایم کیو ایم کے تجویز کردہ آئینی ترمیم بل کی حمایت مانگی تھی-مسلم لیگ ن سے ہمارا ہمارا باقاعدہ طور پر معاہدہ ہوا ہے اس بات پرچھبیسویں ترمیم میں بھی ایم کیو ایم کے بل کو شامل کرنے پر زور دیا-

ستائیسویں ترمیم کی بات ہو رہی تھی تو ایم کیو ایم چاہتی ڈیولپمنٹ فنڈ مانگتی تھی ہم نے پاکستان کے 24 کروڑ لوگوں کی دہلیز پر اختیارات مانگے-ستائیسویں ترمیم میں بھی ہم نے یہی بات کی میں وزیر اعظم ، ایمل ولی اور پی ٹی آئی کے دوستوں کا شکر گزار ہوں-ستائیسویں ترمیم میں جب ایم کیو ایم کا بل چلا گیا تو اسے تلف کر دیا گیا-

ہمارے پاس جاوید حنیف ، حسان صابر اسٹینڈنگ کمیٹی میں موجود تھے-اسٹینڈنگ کمیٹی میں ہم نے اپنا مقدمہ جیت لیا تھا-پیپلز پارٹی ہمارے بل کو ستائیسویں ترمیم میں سپورٹ کرنے سے متعلق تیار نہیں تھی-حکمران جماعت نے ہمیں کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں آرمی چیف سے متعلق ترامیم ہیں سپورٹ کریں-یقین دہانی کروائی گئی ہے اگلے بل میں شامل کرینگے-

ہم نے آج بھی آرٹیکل 140 اے متعلق اپنے بل کو زندہ رکھا ہوا ہے-ہماری کابینہ کے تمام اراکین نے ایم کیو ایم کے بل سے متعلق اسمبلی میں آواز اٹھائی-ہم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا اگر کابینہ میں یہ بل ڈسکس نہیں ہوا تو ہم استعفیٰ دینگے-وفاقی وزیر قانون نے ایک منٹ آٹھ سیکنڈ صرف ہمارے بل کی بات اور حمایت کا اعلان کیا-پاکستان کے سب لوگوں نے اس بات کا اظہار کر دیا یہ بل ایم کیو ایم کا کہلائے گا-

لوگوں کے مظاہرہ کرنے سے پاکستان کے کسی ایک گھر میں پانی نہیں آیا-پنجاب میں متفقہ طور پر اس سلسلے میں قرارداد منظور کی گئی ہے-میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور اراکین پنجاب اسمبلی کا شکر گزار ہوں-پنجاب اسمبلی نے ایم کیو ایم کے تجویز کردہ بل کو آئینی ترمیم کا حصہ بنانے کی قرارداد منظور کی-یہ ایڈمنٹسٹریٹیو میٹر نہیں رہا یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے-

بلوچستان میں منتخب نمائندہ اپنےحلقے کا سفر شروع کرے تو پھر تین دن بعد پہنچتا ہے-ایک ایم این اے اور ایم پی اے تمام علاقوں میں رہنے والوں کی ضرورتوں کو پورا کرے یہ کیسے ممکن ہے-اگر لوکل گورنمنٹ ہوتی بلوچستان میں ان کو ڈائریکٹ فنڈ ملتے پھر کوئی ہتھیار اٹھا کر پاکستان نہیں جاتا-ستر سالوں سے اپنی فوج کو لوگوں سے لڑوا رہے ہیں-اس نظام کو تبدیل کرنے کی کوئی بات نہیں کر رہا-

فوج کی قیادت کو کہتا ہوں یہ ایم کیو ایم کا نہیں پاکستان کی سیکورٹی کا مسئلہ ہے-ٹاؤن اور یونین کونسل میں بلوچستان میں پیسے نہیں جا رہے-1999 تک کراچی کو آکٹرائے ضلع ٹیکس ملتا تھا-1999 میں اس وقت کی حکومت نے جی ایس ٹی 2.5 فیصد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر عملدرآمد شروع ہوا-

کراچی پورٹ پرٹریفک سے اس لیے پیسے لیے جاتے ہیں جو انفرااسٹرکچر خراب ہوتا ہے اس کو ٹھیک کیا جائے گا-37.8 پر سندھ کی آبادی کراچی میں ہے-دو سو ارب روپے صرف ہمارے آئی ڈی سی کے بنتے ہیں-وفاق نے صوبوں کو پیسے دیدیے ہیں جو منتقل نہیں ہو رہے یوسی لیول پر جو جہاز اڑ رہے ہیں اس میں کراچی والوں کے پیسے شامل نہیں ہیں-

ہم اس ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نہیں نکالتے-کراچی دودھ دینے والی گائے ہے اس کو چارہ کب تک نہیں کھلاؤ گے-اس لیے اس آئینی ترمیم کی ضرورت پڑی ہے-اس ملک میں صوبے بھی کسی آئین کے تحت چل رہے ہیں-آرٹیکل 140 اے دینے کی بات کرتے ہیں وہ نہیں مانتے-ہم نہیں کہہ رہے پنجاب کہہ رہا ہے ملک کا وزیراعظم کہہ رہا ہے پنجاب اسمبلی کہہ رہی ہے-

ایم کیو ایم تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک نکاتی ایجنڈے پر قائم رہی-ہمارا دشمن بھی ہم پر کرپشن کے الزام نہیں لگا سکتا-ہم چاہتے ہیں اور زیادہ کمائیں اپنی پاک افواج کو مضبوط کریں-آج انڈیا اسی محرومی کا فائدہ اٹھاتا ہے ہم سے-محرومی سے پاکستان کو نکالنا ہے تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں-

پیپلزپارٹی کے دوستوں کو کہتا ہوں آئیے اپنے لوگوں کو بلائیں-ہم بند کیمرے میں بات نہیں کرتے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی بات کر رہے ہیں-آپ کا میئر ہے کراچی میں ہم تو سکھر ، لاڑکانہ ، میر پور خاص کی بات کر رہے ہیں-جب لاڑکانہ کو اختیارات ملیں گے ہمیں بھی ملیں گے-وہ لوگ جو پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے مخالف ہیں ان کو کہتے ہیں اگر اختیارات نہیں دیے پاکستان تو صوبے بنانے کی بات ہوگی-

اپنا تبصرہ بھیجیں