اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) معروف آئینی ماہر بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ: “آرمی چیف اور صدرِ مملکت کو پوری زندگی کے لیے استثناء دے دینا دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتا! یہ تو بادشاہت جیسا درجہ دے دیا گیا ہے… اب اگر وہ کسی کو گولی بھی مار دیں تو ان پر کوئی مقدمہ نہیں بنے گا!”
بیرسٹر راجہ کے اس سخت مؤقف نے سیاسی و قانونی حلقوں میں آگ لگا دی ہے۔
لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:
⚡ کیا پاکستان آئینی جمہوریت سے بادشاہت کی طرف بڑھ رہا ہے؟
⚡ کیا قانون سب کے لیے برابر رہے گا یا اب دو پاکستان بن چکے ہیں؟
ماحول میں بے چینی، سوشل میڈیا پر دھماکے، اور قانونی مباحثوں میں شدید گرما گرمی — ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔


