140

کراچی بار ایسوسی ایشن کا زوردار اعلان: 27ویں ترمیم کو عدلیہ کے خلاف سازش قرار دے کر پورے سندھ میں ہڑتال کا آغاز!

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) – کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری **غلام رحمان کورائی** اور ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکرٹری **مرزا سرفراز** نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے عدلیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔

**مرزا سرفراز** نے کہا کہ:

* “جس طرح ترامیم کی جا رہی ہیں، وہ ٹارگیٹڈ ہیں اور عدلیہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
* “پہلے آئینی بینچز بنائے گئے لیکن انصاف نہیں ہوا، اور جس 26 ویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا اس پر فیصلہ تک نہیں ہوا۔”
* “ہائیکورٹ سے آئین کے آرٹیکل 199 کے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں اور ججز نے درخواستیں سننے سے انکار کر دیا ہے۔”
* “اسلام اور قانون میں کوئی بالاتر نہیں، سربراہ مملکت اور عام انسان برابر ہیں۔”
* “منتخب اسمبلی نے 1973 کا آئین بنایا اور 18 ویں ترمیم سے بہتری آئی، مگر اب 27 ویں ترمیم سے مزید خرابیاں پیدا کی گئی ہیں۔”

**غلام رحمان کورائی** نے کہا کہ:

* “ہم نے اسی سال کراچی بار میں ججز **جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ** کو بلایا تھا۔
* “بڑی سازش رچی جا رہی ہے، لیکن بائیس کروڑ عوام جاگ رہی ہے۔ آج سپریم کورٹ پاکستان نہیں، صرف سپریم کورٹ رہ گئی ہے۔”
* “پورے سندھ میں ہڑتال ہوئی، اور سکھر میں کنونشن کے دوران آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔”
* “پارلیمنٹ میں قانون کو چند منٹ میں پاس کرانا، اور ایک فرد کا سب کنٹرول کرنا درست نہیں۔ اسلام میں حضرت خالد بن ولید کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔”

پریس کانفرنس کے دوران وکلا نے اس بات پر زور دیا کہ مستعفی ججز کے حوالے سے ہڑتال اور آئینی بینچز کے قیام کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں