86

افغانستان شدید معاشی بحران کا شکار، اقوام متحدہ کی رپورٹ

کابل (ایچ آراین ڈبلیو) افغانستان میں معاشی بحالی شدید بحران کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ہر 10 میں سے 9 خاندان زندہ رہنے کے لیے کھانا چھوڑنے، سامان بیچنے یا قرض لینے پر مجبور ہیں۔ بڑے پیمانے پر افغانوں کی ملک واپسی اور قدرتی آفات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی رپورٹ کے مطابق، ہر 10 میں سے تقریباً ایک افغان جو بیرونِ ملک تھا، کو ملک واپس آنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ 2023ء سے اب تک 45 لاکھ سے زائد افغان، زیادہ تر ایران اور پاکستان سے، واپس لوٹے ہیں۔ جس سے ملک کی آبادی میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، زلزلے، سیلاب اور خشک سالی نے 8 ہزار گھر تباہ کر دیے اور عوامی خدمات کو حد سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2023ء سے اب تک 45 لاکھ واپس لوٹنے والے افغان باشندے ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کا ورک فورس میں حصہ صرف 6 فیصد رہ گیا ہے۔ یو این ڈی پی نے افغانستان میں بھوک اور ہجرت کے بڑھتے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں