کیف(ایچ آراین ڈبلیو) یوکرین اب اپنے حملہ آور حریف روس کے تباہ کن ڈرونز کا شکار مچھلیوں کی طرح کرے گا، جس کے لیے اس نے فرانس سے حیرت انگیز ٹیکنالوجی منگوا لی۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ فرانس کے عام ماہی گیری کے جال، جو کبھی سمندر کی گہرائیوں میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب یوکرین کے آسمانوں میں روسی ڈرونز کا شکار کرنے لگے ہیں، یعنی فرانسیسی ماہی گیری کے جال اب یوکرین کا نیا دفاعی ہتھیار بن گیا ہے۔
برطانوی خیراتی ادارے کرنک سولیڈیریٹیز نے فرانس سے ایسے جالوں کی 2 بڑی کھیپیں یوکرین بھیجی ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 280 کلومیٹر ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق یہ جال اب محاذِ جنگ پر فوجیوں اور شہریوں کو ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے ایک غیر متوقع مگر مؤثر دفاعی آلہ بن چکے ہیں۔


