کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — درگاہ عبداللہ شاہ غازی پر زائرین کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے تنازع کا شکار ہوگئے۔ ایڈمنسٹریٹر اوقاف کراچی نے مینیجر اوقاف کلفٹن سرکل کی ترقیاتی اسکیموں پر سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “ناجائز” اور “عوامی پیسے کی لوٹ مار” قرار دے دیا۔
ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف کراچی نے صرف **واش رومز کی مرمت** کو ضروری قرار دیتے ہوئے زائرین کے لیے **28 واش رومز کی فوری بحالی** کی سفارش کی ہے۔
ایڈمنسٹریٹر اوقاف نے اس حوالے سے **چیف ایڈمنسٹریٹر سندھ** کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں مینیجر اوقاف کلفٹن پر قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مراسلے کے مطابق ترقیاتی اسکیمیں براہِ راست بھیجنا **ویسٹ پاکستان وقف پراپرٹی رولز 1960 کے اصول 5** اور **ای اینڈ ڈی رولز 1973** کی خلاف ورزی ہے۔ مزید کہا گیا کہ درگاہ کے لیے پیش کردہ کئی اسکیمیں بجٹ سے تجاوز کرتی ہیں، جبکہ **چھتوں پر ٹائلیں لگانے** جیسے منصوبے غیر ضروری اور عوامی خزانے پر بوجھ ہیں۔
ایڈمنسٹریٹر اوقاف کراچی نے زور دیا کہ **ڈسپنسری کو سال بھر فعال** رکھا جائے اور تمام کام **معتبر ٹھیکیدار کے ذریعے شفاف طریقے سے** مکمل کیے جائیں۔
انہوں نے منصوبوں میں شفافیت، قانونی ضوابط کی پابندی اور **عوامی مفاد میں اوقاف فنڈز کے درست استعمال** پر بھی زور دیا۔ مراسلے کی نقول **وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری،** اور **اینٹی کرپشن حکام** کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔


