چار سدہ (ایچ آراین ڈبلیو) دلہا میاں کی قسمت نے عین شادی کے دن ایسا پلٹا کھایا سہرا باندھنے کا موقع تو ملا، مگر ہاتھوں میں پھولوں کی بجائے ہتھکڑیاں آگئیں!
چار سدہ میں ایک نوجوان کی شادی دھوم دھام سے جاری تھی کہ قریبی دوستوں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ محلے داروں نے سمجھا شاید دلہن جہیز میں ٹینک لے آئی ہے کیونکہ گولیاں چلنے کی آوازیں مسلسل گونجتی رہیں۔
پولیس کو خبر ملی تو وہ بھی بارات کی طرح پورےجلوس کے ساتھ پہنچ گئی۔ ایس ایچ او کی قیادت میں جتنی تیزی سے پولیس نے انٹری ماری، باراتیوں نے اتنی تیزی کبھی پیزا پر بھی نہیں ڈالی۔ ڈھول بند، ڈانس ختم اور دلہے کی انٹری سیدھی تھانے میں!
پولیس نے نہ صرف اسلحہ برآمد کیا بلکہ سوشل میڈیا پر دلہے کی ایسی تصویر شیئر کی کہ لوگ کمنٹس میں لکھنے لگے:
“بھائی! یہ شادی تھی یا ٹارزن ری ٹرنز؟”
“یارو دلہا میاں دلہن گھر لانے نکلے تھے یا دشمن ملک فتح کرنے؟”
اطلاعات ہیں کہ دلہن والوں نے بھی دلہے کو دیکھ کر یہی کہا کہ “بیٹا! بارود سے نہیں، پیار سے گھر بسایا جاتا ہے!”
دلہا میاں اب تھانے میں مہندی کی بجائے آئندہ فائرنگ نہ کرنے کی ضمانتیں لکھ رہے ہیں۔ جبکہ باراتی اب تک سوچ رہے ہیں کہ اگلی شادی میں ڈھول والا بلائیں یا لائسنس والا؟


