90

پاکستان، ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ

انقرہ (ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان نے میزبان ملک ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد آج وطن واپس روانہ ہونے والا تھا، تاہم میزبانوں کی درخواست پر وفد نے استنبول میں مزید قیام کا فیصلہ کیا تاکہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھا جا سکے اور امن کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا محور پاکستان کا وہی بنیادی مطالبہ ہوگا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

اطلاعات کے مطابق افغان حکام نے بھی سفارتی سطح پر مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطے کیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہے۔ ترکیہ کی خواہش ہے کہ اس کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں۔

یاد رہے کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے چار طویل ادوار ہو چکے ہیں، تاہم طالبان کے مؤقف میں بار بار تبدیلی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی رہی۔ ذرائع کے مطابق طالبان وفد پاکستان کے مطالبات کو ثالثوں کے سامنے تسلیم کر لیتا تھا، مگر کابل انتظامیہ سے رابطے کے بعد مؤقف تبدیل کر دیتا، جس سے تاثر ملتا تھا کہ کابل حکومت کسی بیرونی اثر کے تحت کام کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ثالثوں نے بھی پاکستان کے مطالبات کو جائز قرار دیا تھا۔ اس سے قبل دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جبکہ یہ طے پایا تھا کہ استنبول مذاکرات میں دہشت گردی کی روک تھام اور اس کی نگرانی کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں