بھارت(ایچ آراین ڈبلیو)ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ہولناک اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی نے ڈاکٹر کو 10 فیصد کمیشن دے کر زہریلا کھانسی سیرپ تجویز کرایا، جس کے نتیجے میں متعدد معصوم بچوں کی اموات ہوئیں۔
واقعے کی تفصیلات:
چھندواڑا ضلع میں کف سیرپ کے استعمال سے کئی بچوں کی اموات
پولیس نے ایک ماہر امراض اطفال کو گرفتار کیا
ڈاکٹر پر تامل ناڈو کی کمپنی سریسن فارماسیوٹیکل کا ’کولڈرف سیرپ‘ تجویز کرنے کا الزام
خطرناک کیمیائی ملاوٹ:
سیرپ میں ڈائیتھیلین گلائکول نامی زہریلا کیمیکل پایا گیا، جو:
گردوں کے ناکامی کا باعث بنتا ہے
متعدد بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ ثابت ہوا
کارروائی:
تامل ناڈو حکومت نے کمپنی کو فوری بند کرنے کا حکم دیا
کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے مارے
ڈاکٹر کو ضمانت کی درخواست مسترد
عدالتی موقف:
عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر نے “حکومتی انتباہات کے باوجود دانستہ طور پر خطرناک ملاوٹی دوا تجویز کی”۔
یہ واقعہ میڈیکل شعبے میں بدعنوانی اور منافع کے لیے انسانی جانوں سے کھلواڑ کی المناک داستان ہے، جس نے صحت کے شعبے میں سخت ریگولیشن کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔


