غزہ/رام اللہ(ایچ آراین ڈبلیو) اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے پہلے روز تاریخی تبادلہ عمل میں آگیا، جس کے تحت حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیے جبکہ اسرائیل نے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا۔
یرغمالیوں کی رہائی کا عمل
حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو دو مرحلوں میں بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کیا
پہلے مرحلے میں 7 یرغمالی رہا کیے گئے
دوسرے مرحلے میں 13 دیگر یرغمالیوں کو رہا کیا گیا
تمام یرغمالیوں کو اسرائیلی فوج کے حوالے کیا گیا اور انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا
فلسطینی قیدیوں کی واپسی
اسرائیلی جیلوں سے 38 بسیں فلسطینی قیدیوں کو لے کر غزہ پہنچیں
عوفر جیل سے 108 قیدیوں کو مغربی کنارے لے جایا گیا
کتسیعوت جیل سے 142 دیگر قیدی رہا ہوئے
کل 154 فلسطینی قیدیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا
عوفر جیل کے باہر جذباتی مناظر
مغربی کنارے میں عوفر جیل کے باہر سیکڑوں فلسطینی جمع ہوئے
اسرائیلی فورسز نے ربڑ کی گولیاں چلا کر جمع ہونے والوں کو منتشر کیا
قیدیوں کے استقبال کے لیے خان یونس میں ہزاروں فلسطینی موجود تھے
امن کے اقدامات
جنگ بندی معاہدے کے تحت 1900 سے زائد فلسطینی قیدی رہا ہوں گے
ریڈ کراس نے تبادلے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا
القسام بریگیڈ کے ارکان نے رہائی کے مقامات کی سیکیورٹی سنبھالی
آئندہ اقدامات
حماس نے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کے ناموں کی فہرست جاری کر دی
ریڈ کراس کے حکام مزید قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار ہیں
اسرائیلی ہیلی کاپٹر غزہ بارڈر پر تعینات ہیں
یہ تبادلہ دو سال سے جاری جنگ کے بعد امن کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے۔


