75

غزہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد حماس رہنما کی پہلی پریس کانفرنس، قیدیوں کے وسیع تبادلے کا اعلان

قاہرہ/غزہ (ایچ آراین ڈبلیو)حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں نہ صرف جنگ بندی بلکہ قیدیوں کے بڑے پیمانے پر تبادلے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

الحیہ نے کہا کہ “برادر ثالث ممالک اور امریکا نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جنگ کا پہلا مرحلہ مکمل امن معاہدے کی طرف لے جائے گا۔” انہوں نے غزہ کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ “دو سال کی اس بھیانک جنگ میں ہمارے عوام کی ثابت قدمی تاریخ میں زندہ رہے گی۔”

حماس رہنما کے مطابق، “اسرائیلی جیلوں میں عمر قید کاٹنے والے تمام بے گناہ فلسطینی قیدی، نیز تمام فلسطینی خواتین اور بچے جنہیں اسرائیل نے حراست میں لے رکھا ہے، معاہدے کے تحت رہا ہوں گے۔”

رپورٹس کے مطابق مصر کے زیر اہتمام ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر ابتدائی دستخط ہو چکے ہیں، جس کے تحت 72 گھنٹوں کے دوران حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اگرچہ حماس جنگ کے خاتمے کا اعلان کر رہی ہے، لیکن اسرائیلی حکام ابھی تک محتاط موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کو خطے میں پرامن مستقبل کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں