83

8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ جو پاکستان کے دل پر ایک زخم بن گیا

آزاد کشمیر/ اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان کی تاریخ کے مہیب ترین سانحوں میں سے ایک، 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو آج پورے 20 سال بیت گئے ہیں، مگر اُس صبح آنے والی تباہی کے زخم آج بھی دلوں پر تازہ ہیں۔

وہ صبح جس نے لاکھوں زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیں۔ ریکٹر سکیل پر 7.6 کی شدت کے ساتھ آنے والے اس زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چند سیکنڈز کے اندر ہی ہنستے بستے شہر اور گاؤں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئے۔

زندہ دفن ہوتی ہوئی بستیاں

یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں، ایک قیامت تھی جس نے 28,000 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس قیامت خیز زلزلے نے 400 سے زائد گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 80 ہزار سے زیادہ افراد اس میں جاں بحق ہوئے، جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔

تعلیم اور صحت کا مکمل خاتمہ

زلزلے نے نہ صرف گھر گرائے بلکہ علاقے کی تعلیمی اور صحتی بنیادی ڈھانچے کو بھی ملیامیٹ کر دیا۔ متاثرہ علاقوں کے 16 ہزار اسکول اور 80 فیصد صحت کے مراکز زمین بوس ہو گئے، جس نے نسل در نسل چلنے والے نقصان کی بنیاد رکھ دی۔

آج بیس سال گزرنے کے بعد بھی، وہ المناک دن پاکستان کے اجتماعی حافظے میں ایک ایسا سانحہ بن کر ثبت ہو چکا ہے جس کی تپش محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ دن نہ صرف ہمارے عزم کی تجدید کا موقع ہے بلکہ ان لاکھوں متاثرین کے لیے ہمدردی اور ان لوگوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اس آفت کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے انتھک محنت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں