اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) اقوام متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سرفراز احمد گوہر نے بھارت کے دعوؤں کے جامع ردعمل میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا “اٹوٹ انگ” نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔
اقوام متحدہ میں خطاب کے اہم نکات:
بین الاقوامی قوانین کی نشاندہی:
پاکستانی نمائندے نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جن میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت ان قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند ہے۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ فاش:
سرفراز احمد گوہر نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا، خاص طور پر کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کی مظلومانہ کارروائیوں پر تفصیلی بات کی۔
کشمیری خواتین کے مسائل:
پاکستانی نمائندے نے زور دے کر کہا کہ کشمیری خواتین دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں جنسی تشدد، ہراسانی، غیر قانونی گرفتاریوں اور اجتماعی سزاؤں جیسے مظالم کا شکار ہیں۔
عالمی برادری سے اپیل:
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پابند بنائے اور کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر اپنے دعوے دہرائے تھے، جس پر پاکستان نے مسلسل اور جامع طور پر ردعمل دیا۔


