101

14کروڑبھتہ مانگنے والے 3ملزمان کے چہرے بے نقاب ہوگئے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) تین تاریخ کو ہونے والی ایک پولیس پریس کانفرنس نے شہریوں کے ذہنوں میں سوالات کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

پریس کانفرنس میں چھوٹے چوروں اور گٹکا فروشوں کے چہرے کارٹون تصاویر سے ڈھانپے گئے، جبکہ ماہانہ 14 کروڑ روپے سے زائد بھتہ وصولی کے الزامات میں ملوث بڑے ملزمان کے چہرے بغیر کسی نقاب کے عوام کے سامنے پیش کیے گئے۔

یہ منظر شہریوں کے لیے حیرت اور تشویش کا باعث بنا ہے۔ عوام سوال کر رہی ہے کہ آیا یہ دوہرا معیار ہے؟ کیا چھوٹے مجرموں کی شناخت چھپانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال صرف انہیں کے لیے مخصوص ہے؟

شہریوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ اقدام پولیس کی جانب سے ہے یا کسی اور ادارے کا؟ آخر کون دے گا اس دوہرے معیار کا جواب – پولیس، یا پھر کوئی نہیں؟

یہ صورتحال انصاف کے یکساں عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے، جہاں چھوٹے مجرم تو پردے کے پیچھے ہیں مگر بڑے مجرمان کھلے عام نظر آ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں