واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)امریکا میں مقیم 27 سالہ پاکستانی ڈاکٹر مریم شوکت، جگر کی پیوند کاری (لیور ٹرانسپلانٹ) سے صرف آدھا گھنٹہ قبل انتقال کر گئیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں ڈاکٹر مریم شوکت کو جگر کے مسائل کے باعث نیویارک، نیو جرسی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، مگر ان کی طبیعت تیزی سے بگڑتی گئی، اور ڈاکٹروں نے زور دیا کہ فوری ٹرانسپلانٹ ہی ان کے بچنے کا واحد حل ہے۔
ان کے شوہر ڈاکٹر حمزہ ظفر نے ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ (APPNA) سے مدد طلب کی۔ تنظیم نے فوری طور پر ایک ہنگامی فنڈ ریزنگ مہم شروع کرکے جواب دیا۔ ایک ہی دن میں، 273,000 ڈالر اکٹھے کئے گئے۔
ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہAPPNA نے فوری طور پر 100,000 ڈالر اسپتال کو ادا کیے، جس سے ڈاکٹر مریم کا نام ٹرانسپلانٹ کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک مماثل ڈونر بھی جلد ہی مل گیا، جس سے امید تھی کہ ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ APPNA کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد ثناء اللہ اور صدر ڈاکٹر حمیرا قمر کے مطابق ڈاکٹر اے فضل اکبر، ڈاکٹر ذیشان، ڈاکٹر بابر راؤ، ڈاکٹر فتح شہزاد، اور ڈاکٹر صدیق خرم سمیت معالجین کے ساتھ، پوری کمیونٹی نے اس کوشش کی حمایت کے لیے ریلی نکالی۔ انہوں نے اسے ایک نوجوان ڈاکٹر کی زندگی بچانے کا مشن قرار دیا۔


