اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو) ملک کے معاشی بحران کے دوران ایک سینئر سرکاری افسر کی بیٹی کی تقریباً 25 کروڑ روپے (24 کروڑ 80 لاکھ) کی لاگت والی شاہانہ شادی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تحقیقات کو جنم دے دیا ہے۔
شادی کے اخراجات کی تفصیلات:
چھ دن تک جاری رہنے والی شادی کی تقریبات میں ہونے والے اخراجات نے ٹیکس حکام کی توجہ حاصل کی:
سجاوٹ و مقامات: تقریباً 4 کروڑ روپے
مہمانوں کے کھانے: 3 کروڑ روپے
دلہا دلہن کے ملبوسات: 3 کروڑ روپے
ہیروں کے زیورات: 8 کروڑ روپے
میک اپ، فوٹوگرافی، ڈرون شوٹس: خطیر رقم
ٹیکس چوری کے شبہات:
ایف بی آر حکام کے مطابق:
نہ تو سرکاری افسر اور نہ ہی ان کی بیٹی نے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ان اخراجات کا اظہار کیا
زیادہ تر ادائیگیاں نقد کی گئیں
وینڈرز سے حاصل کردہ کوئی انوائسز دستیاب نہیں
دلہن کے غیر ملکی دورے اور پرتعیش طرز زندگی نے ٹیکس چوری کے شبہات کو مزید تقویت دی ہے
معاشی بلیک ہول:
ٹیکس حکام اس معاملے کو “معاشی بلیک ہول” قرار دے رہے ہیں، جہاں اربوں روپے کے لین دین کے باوجود ریاست ٹیکس کے طور پر ایک روپیہ بھی وصول نہیں کر پاتی۔
یہ معاملہ ملک کے ٹیکس نظام اور امیر طبقے کے طرز زندگی کے درمیان واضح تضاد کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عام شہری مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔


