نیویارک(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان، روس، چین اور ایران نے افغان حکومت سے ملک میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کا واضح مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقدہ چار فریقی وزرائے خارجہ میٹنگ کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی خبررساں ادارے ایران پریس کے مطابق، روس کی دعوت پر ہونے والی اس میٹنگ میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے شریک ہوئے۔ شرکاء نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں افغانستان سے نکلنے والے دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ چاروں ممالک افغانستان کو “ایک آزاد، متحد اور مستحکم ملک” کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک ہو۔ بیان میں داعش، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جیش العدل اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیموں کو خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
یہ چاروں ممالک افغانستان کے حوالے سے اپنی چوتھی مشترکہ میٹنگ منعقد کر رہے ہیں، جس سے خطے میں افغانستان کے حوالے سے مشترکہ تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔


