واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اہم ملاقات میں کہا ہے کہ “ترکی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ روس سے تیل اور گیس نہ خریدے۔” یہ بات انہوں نے ایف-35 فائٹر جیٹ طیاروں کی ممکنہ فروخت کے حوالے سے کہی۔
ایف-35 ڈیل پر کشیدگی:
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ترکیہ امریکا سے جدید ترین ایف-35 طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، “انہیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، ہمیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، اور ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔” واضح رہے کہ امریکا نے 2019 میں ترکیہ کو روس کے ایس-400 ڈیفنس سسٹم خریدنے پر ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا تھا۔
توانائی کے حوالے سے اہم انکشاف:
امریکی صدر نے اس موقع پر ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ “چین اور بھارت کے بعد ترکیہ روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔” ان کے مطابق جنوری 2023 سے ترکیہ روس سے 90 ارب ڈالر سے زائد کا تیل، کوئلہ اور گیس خرید چکا ہے۔
یوکرین جنگ میں ثالثی کا کردار:
ٹرمپ نے کہا کہ اردوان روسی صدر پوتن اور یوکرینی صدر زیلنسکی دونوں کا احترام کرتے ہیں، اور “اگر وہ چاہیں تو روس-یوکرین جنگ بندی کے معاملے پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں۔”
اردوان کی پوزیشن:
ترک صدر نے واضح کیا کہ وہ ایف-35 طیاروں پر پابندی ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ یہ دونون رہنماؤں کے درمیان 2019 کے بعد وائٹ ہاؤس میں پہلی ملاقات تھی۔
یہ مذاکرات ترکیہ-امریکا تعلقات میں ایک نئی موڑ کی نشاندہی کر رہے ہیں، جہاں فوجی تعاون توانائی کے معاملات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔


