واشنگٹن/غزہ(ایچ آراین ڈبلیو)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ “ہم غزہ کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، ممکن ہے کہ یہ ابھی ختم کر دی جائے۔” انہوں نے مسلم اور عرب ممالک کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات کو “انتہائی کامیاب” قرار دیا ہے، جس کی تصدیق ترکی کے صدر اردوان نے بھی کی۔
ٹرمپ کے منصوبے کی حقیقی نوعیت:
تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا اصل منصوبہ غزہ میں بین الاقوامی مسلمان فوجی دستے تعینات کرنے کا ہے، لیکن اس کی خطرناک شرائط ہیں:
حماس کے مجاہدین کو غیر مسلح کرنا
غزہ کا کنٹرول محمود عباس کی حکومت کے حوالے کرنا
منصوبے کے پیچھے اصل مقصد:
یہ منصوبہ درحقیقت مسلمان ممالک کے ذریعے حماس کی مزاحمتی قوت کو ختم کرنے کی ایک چال ہے۔ اگر حماس غیر مسلح ہو جاتی ہے اور غزہ پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے، جبکہ مسلمان فوجیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ غزہ میں مزاحمت دوبارہ نہ اٹھ سکے، تو یہ اسرائیل کی مکمل فتح ہوگی۔ بعد ازاں مسلمان فوجوں کی واپسی کے بعد اسرائیل کو دوبارہ قبضے میں کوئی مزاحمت درپیش نہیں ہوگی۔
پاکستان اور ترکی کے لیے تاریخی موقع اور چیلنج:
تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور ترکی سمیت مسلمان ممالک کی فوجیں غزہ ضرور جائیں، لیکن “مجاہدین کو غیر مسلح کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کی مدد اور ان کو مزید طاقت دینے کے لیے۔” بوسنیا کی جنگ میں پاکستان کی امن فوجیں بھیجنے کی مثال دی جا رہی ہے، جہاں پاکستان نے اقوام متحدہ کے بینر تلے بوسنیا کے مسلمانوں کی فعال مدد کی تھی۔
پاکستان کے لیے ہدایت:
تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو انتہائی محتاط رہنا ہوگا کہ دشمن اسے غزہ کی مزاحمت ختم کرنے کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ “ہماری اصل ڈیوٹی غزہ کی مزاحمت کو تقویت دینا، ان کی حفاظت کرنا اور غزہ سے اسرائیل کو نکالنا ہے۔” یہی وہ اصل امتحان ہے جس میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں واضح موقف اپنانا ہوگا۔


